انڈونیشیا کا امریکی امن منصوبے کے تحت غزہ میں 8 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان

0

جکارتہ – انڈونیشیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انڈونیشی فوج کے سربراہ کے مطابق ملک 8 ہزار فوجی غزہ میں تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔

انڈونیشیا کے صدارتی ترجمان پراسیٹو ہادی نے بتایا کہ غزہ کے لیے مجوزہ کثیر ملکی امن فورس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار فوجی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں سے انڈونیشیا کی جانب سے 8 ہزار اہلکار فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی حتمی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو انڈونیشیا امن فورس میں شمولیت کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رہا ہے، تاہم ’بورڈ آف پیس‘ کی مستقل رکنیت کے لیے درکار ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی سے قبل مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

انڈونیشی حکام کے مطابق فوجی تعیناتی کا حتمی فیصلہ فورس کے مینڈیٹ، دائرہ اختیار اور آپریشنل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ آف پیس کے آئندہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس کے انعقاد کا بھی امکان ہے، جس میں عالمی شراکت داروں کی شرکت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور مستقل امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے متعدد ممالک شامل ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، مصر، اردن، کویت اور قطر کے وزرائے خارجہ اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.