بھارت–پاکستان کشیدگی ٹیرف دھمکی کے ذریعے ختم کرائی، ایران نے معاہدہ نہ کیا تو سخت ایکشن ہوگا: ٹرمپ
واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، اور اس مقصد کے لیے محصولات (ٹیرف) کو سفارتی دباؤ کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
ایک امریکی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران “آٹھ جنگیں ختم کرائیں”، جن میں سے کم از کم چھ تنازعات ٹیرف کے ذریعے دباؤ ڈالنے سے رکے۔ ان کے مطابق انہوں نے متعلقہ ممالک کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ بندی نہ کی گئی تو امریکا سخت تجارتی اقدامات کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک حد تک کشیدہ ہو چکی تھی اور ان کے بقول یہ جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک “آمنے سامنے” تھے، متعدد طیارے تباہ ہو چکے تھے اور حالات بے حد سنگین تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کے کردار کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی مداخلت سے خطے میں کشیدگی کم ہوئی اور ممکنہ طور پر “لاکھوں جانیں بچ گئیں”۔
تاہم، اس دعوے پر نہ نئی دہلی اور نہ ہی اسلام آباد کی جانب سے باضابطہ اور تفصیلی تصدیق سامنے آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط کشیدگی کو “ڈیڑھ دن میں ختم کرایا”۔ ان کے مطابق انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو امریکا تجارتی پابندیوں سمیت سخت اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو بھی خبردار کیا کہ اگر جاری مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے اور اس بار تہران سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو امریکی فوجی طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا خطے میں مزید بحری اثاثے تعینات کر سکتا ہے۔