امریکا میں پاکستانی نژاد طالبہ پر تیزاب حملہ: پانچ سال بعد مشتبہ ملزم گرفتار

0

نیویارک – امریکا کی ریاست نیویارک کے قریب لانگ آئی لینڈ کے علاقے میں پاکستانی نژاد امریکی میڈیکل طالبہ نافیہ اکرام پر ہونے والے ہولناک تیزاب حملے کے مرکزی مشتبہ ملزم کو واقعے کے تقریباً پانچ سال بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نیویارک پولیس کے مطابق ملزم کی تلاش گزشتہ پانچ برس سے جاری تھی اور جدید فرانزک شواہد، ڈی این اے تجزیے اور ڈیجیٹل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے بالآخر تفتیش کار مشتبہ شخص تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ حکام نے قانونی تقاضوں کے باعث گرفتار فرد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی۔

یہ واقعہ 17 مارچ 2021 کو پیش آیا جب نافیہ اکرام لانگ آئی لینڈ میں اپنے گھر کے باہر موجود تھیں۔ پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے ان کے چہرے پر تیزاب پھینکا اور فوری طور پر موقع سے فرار ہوگیا۔

حملے کے نتیجے میں نافیہ اکرام شدید زخمی ہوئیں، ان کی بینائی متاثر ہوئی اور چہرے پر گہرے زخم آئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل علاج اور متعدد سرجریز کے بعد ان کی جان بچائی جا سکی۔

واقعے کے بعد امریکی مسلم کمیونٹی، بالخصوص پاکستانی نژاد شہریوں میں شدید تشویش پائی گئی تھی۔ اس کیس کو ممکنہ نفرت انگیز جرم (Hate Crime) کے زاویے سے بھی دیکھا گیا اور مقامی نمائندوں نے وفاقی سطح پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کیس کو “ہائی پروفائل اور ترجیحی تفتیش” کے طور پر رکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نئے سائنسی شواہد اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے تجزیے نے تفتیش میں پیش رفت ممکن بنائی۔

حکام کے مطابق ملزم کے خلاف باضابطہ فردِ جرم عائد کرنے کا عمل جاری ہے اور جلد عدالت میں پیشی متوقع ہے۔

امریکی قوانین کے تحت تیزاب حملہ سنگین مجرمانہ جرم تصور کیا جاتا ہے، جس میں اقدامِ قتل، شدید جسمانی نقصان پہنچانے اور نفرت انگیز جرم کی دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوا تو ملزم کو طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.