بنگلادیش میں عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم پر ووٹنگ جاری: 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز فیصلہ سنانے کو تیار
ڈھاکا — بنگلادیش میں آج 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ایک اہم آئینی ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جسے ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نہ صرف نئی پارلیمنٹ کے اراکین کا انتخاب کر رہے ہیں بلکہ مجوزہ آئینی اصلاحات پر بھی اپنی رائے دے رہے ہیں۔
یہ انتخابات اگست 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی ’مون سون انقلاب‘ کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس نے ملک کے سیاسی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخابی عمل ہے۔
پولنگ کا شیڈول اور انتخابی حلقے
ملک بھر کے 299 حلقوں میں پولنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔ شیرپور-3 کے حلقے میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نورالزمان بادل کے انتقال کے باعث ووٹنگ مؤخر کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن اس نشست کے لیے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کرے گا۔
حکومت سازی کے لیے 300 میں سے کم از کم 151 نشستوں پر کامیابی لازمی ہے۔
دو بیلٹ پیپر، دو اہم فیصلے
ووٹروں کو دو الگ بیلٹ پیپر فراہم کیے جا رہے ہیں:
-
سفید بیلٹ پیپر: قومی پارلیمنٹ کے رکن کے انتخاب کے لیے
-
گلابی بیلٹ پیپر: مجوزہ ’جولائی نیشنل چارٹر‘ پر ریفرنڈم کے لیے
آئینی اصلاحات: ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی اہم شقیں
ریفرنڈم کے ذریعے پیش کردہ آئینی اصلاحات میں چند بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں:
-
وزیر اعظم کے عہدے کے لیے دو مدتوں کی حد
-
آئندہ انتخابات کے لیے غیر جانبدار نگراں حکومت کی بحالی
-
پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (اپر ہاؤس) کا قیام، جس میں 100 نامزد اراکین شامل ہوں گے
-
موجودہ ایوانِ زیریں کی منتخب نشستیں بدستور 350 رہیں گی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ریفرنڈم منظور ہو جاتا ہے تو بنگلادیش کا آئینی و حکومتی ڈھانچہ نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔
بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
اس انتخاب میں سب سے بڑی تبدیلی عوامی لیگ کی عدم شرکت ہے، کیونکہ پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہے۔ نتیجتاً مقابلہ بنیادی طور پر دو بڑے اتحادوں کے درمیان متوقع ہے:
بی این پی اتحاد
-
قیادت: طارق رحمان
-
ایجنڈا: جمہوریت کی بحالی، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی اصلاحات
-
پس منظر: طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے ہیں
جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد
-
قیادت: ڈاکٹر شفیق الرحمان
-
اہم شراکت دار: نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)
-
این سی پی کے سربراہ: ناہید اسلام، جو طلبہ تحریک سے ابھرنے والی قیادت ہیں
ملک بھر سے مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ تین انتخابات کے مقابلے میں وسیع سیاسی شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات
الیکشن کمیشن کے مطابق شفاف اور پرامن انتخابات کے لیے تاریخ کی بڑی سیکیورٹی تعیناتی کی گئی ہے:
-
تقریباً 10 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات
-
فوج، پولیس، بارڈر گارڈ بنگلادیش، ریپڈ ایکشن بٹالین اور کوسٹ گارڈ شامل
-
ڈرونز اور یو اے ویز کے ذریعے فضائی نگرانی
-
فیلڈ افسران کو باڈی کیمرے فراہم
-
42,779 پولنگ اسٹیشنز میں سے 90 فیصد سے زائد پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف انداز میں مکمل کیے جائیں گے۔
نوجوان اور خواتین ووٹرز کا فیصلہ کن کردار
اعداد و شمار کے مطابق:
-
44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے
-
6 کروڑ 28 لاکھ خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں
-
27 لاکھ خواتین پہلی بار ووٹ ڈال رہی ہیں
-
صرف 83 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جو مجموعی امیدواروں کا تقریباً 4 فیصد بنتی ہیں
سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوان ووٹرز، بالخصوص ’جین زی‘ نسل، اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والی خواتین انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔
فیصلہ کن مرحلہ
آج کا انتخابی عمل صرف نئی پارلیمنٹ کی تشکیل تک محدود نہیں بلکہ بنگلادیش کے آئینی اور سیاسی مستقبل کے تعین کا بھی اہم موقع ہے۔ ریفرنڈم کے نتائج اختیارات کے توازن، حکومتی ڈھانچے اور سیاسی استحکام پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
بنگلادیش کی سیاسی سمت کا تعین اب عوام کے ووٹ سے ہو گا، جس کے نتائج خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔