نیتن یاہو سے ایران پر کوئی ’حتمی‘ معاہدہ نہیں، تہران سے بات چیت جاری رہے گی، ٹرمپ

0

واشنگٹن  —  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ حالیہ ملاقات میں ایران کے معاملے پر کوئی “حتمی” یا “یقینی” سمجھوتہ طے نہیں پایا، تاہم امریکا تہران کے ساتھ سفارتی بات چیت جاری رکھے گا تاکہ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس میں بند کمرہ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا کوئی ڈیل مکمل کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ ممکن ہوا تو اسے ترجیح دی جائے گی، بصورت دیگر “نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔”

نیتن یاہو کا مؤقف اور اسرائیلی تحفظات

ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں پراکسی نیٹ ورکس کو بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دے رہے تھے۔

نیتن یاہو نے اسرائیل کی قومی سلامتی کے مفادات کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ملاقات کے بعد ایسی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی مؤقف کی مکمل توثیق یا کسی مخصوص سکیورٹی گارنٹی کا وعدہ کیا ہو۔

یہ دونوں رہنماؤں کی گزشتہ سال ٹرمپ کی واپسی کے بعد ساتویں ملاقات تھی، جو معمول سے زیادہ خاموش اور میڈیا کی رسائی کے بغیر منعقد ہوئی۔

عمان مذاکرات کے بعد سفارتی سرگرمی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمان میں حالیہ امریکی-ایرانی جوہری مذاکرات کے بعد اگلے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اس ملاقات کے ذریعے واشنگٹن کی سفارتی حکمت عملی پر اثر انداز ہونے کے خواہاں تھے۔

ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ بھی دہرایا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو عسکری آپشن خارج از امکان نہیں۔ دوسری جانب تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی جائے گی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں امریکی افواج کی موجودگی نمایاں ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.