ترکیہ: آکن گرلگ کی بطور وزیرِ انصاف تقرری پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، اپوزیشن کا شدید احتجاج
انقرہ — ترکیہ میں آکن گرلگ کی بطور وزیرِ انصاف تقرری کے بعد پارلیمنٹ میں شدید سیاسی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے ایوان کے اندر بھرپور احتجاج کیا اور صورتحال ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔
پارلیمانی کارروائی کے دوران اپوزیشن اراکین نے آکن گرلگ کی تقرری کو متنازع قرار دیتے ہوئے سخت اعتراضات اٹھائے۔ بعض ارکان ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے اور ایوان میں لاتوں اور گھونسوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے باعث اجلاس کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔
حلف برداری روکنے کی کوشش
اپوزیشن ارکان نے وزیرِ انصاف کی حلف برداری کو روکنے کی کوشش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ آکن گرلگ کی نامزدگی سیاسی طور پر جانبدارانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فرد کو انصاف کی وزارت سونپنا جو ماضی میں اپوزیشن کے خلاف سخت قانونی کارروائیوں کی قیادت کر چکا ہو، عدالتی نظام کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ماضی کا کردار اور سیاسی تناظر
آکن گرلگ اس سے قبل بطور چیف پراسیکیوٹر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کرنے کے باعث پہلے ہی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کی تقرری سے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کے توازن سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں عدالتی اصلاحات اور سیاسی آزادیوں کا معاملہ پہلے ہی حساس موضوع بنا ہوا ہے، اور اس تقرری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
حکومتی مؤقف
حکومتی ارکان نے صدر رجب طیب اردوان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آکن گرلگ نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق وزیرِ انصاف کے طور پر ان کی تقرری آئینی تقاضوں کے مطابق ہے اور اسے سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔
بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی
حالیہ ہنگامہ آرائی اس بات کی عکاس ہے کہ ترکیہ میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور اہم ریاستی عہدوں پر تقرریاں پارلیمانی سطح پر شدید تنازع کا سبب بن رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ملکی سیاست اور عدالتی اصلاحات کی سمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔