اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی اس کی ذمہ دار حکومت ہے، یہاں تک معاملات نہ لے کر جائیں کہ باتیں پھر سڑکوں پر ہوں، ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے، رانا ثنا نے کہا کہ اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے مزید کچھ کہنا ہے تو آپ سپریم کورٹ چلے جائیں۔
پریذائیڈنگ افسر سینیٹر وقار مہدی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایوان کے معمول کے ایجنڈے کی کاروائی معطل کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ایوان کی کاروائی کو معطل کیا جائے، یہاں ایوان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر بیرسٹر سلمان صفدر نے ملاقات کرکے رپورٹ جمع کروائی ہے، اس رپورٹ کے مطابق اپریل تک بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک تھی اس کے بعد بانی پی ٹی آئی نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اس صورتحال کے بارے میں بتایا تین ماہ تک ان کی اس بیماری پر کچھ نہیں کیا گیا جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی بالکل چلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا پمز اسپتال میں اس ڈاکٹر سے علاج کروایا جو اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں تھا، ان کو پمز اسپتال سے انجکشن لگوایا گیا، اس انجکشن کے بعد بھی بانی پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، انسان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کی دیت فقہ میں آدھے انسان کی دیت کے برابر ہے، ان کی اس بیماری کی ذمہ دار حکومت وقت ہے، راولپنڈی اسلام آباد میں اس بیماری کے دو ہی ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر عامر اور ڈاکٹر مظہر سہیل، ان سے علاج کروایا جائے، ان کی آنکھ کی اتنی بینائی چلی گئی یہ جرم ہوا ہے، اڈیالہ جیل پنجاب کی حدود میں آتا ہے، پنجاب حکومت ذمہ دار ہے، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں ںے کہا کہ ظالم جو بھی ہو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، کوئی انسان اسے جائز قرار نہیں دے سکتا، جو بھی اس جرم کے حق میں عذر لائے گا وہ بھی ظالم ہوگا، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک جنگل بن جائے گا، ہم تمام دنیا کے سفیروں کو اس ظلم پر تحریر بھیجیں گے، یہاں تک معاملات نہ لے کر جائیں کہ باتیں پھر سڑکوں پر ہوں، پھر کتنے لوگوں کو گولی ماریں گے آپ؟ ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے۔
رانا ثنا
رانا ثنا اللہ نے ایوان میں جواب دیا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے جو رپورٹ دی ہے اس میں تمام سہولیات کا بتایا گیا ہے، جیل میں ایکسرسائز مشینیں، تین وقت کھانے کی رپورٹ دی گئی ہے، چیف جسٹس نے خود کہا ہے سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے علاج میں انکار کیا گیا، بانی پی ٹی آئی نے کہا جو علاج کیا ہے وہ اس سے مطمئن نہیں، بانی پی ٹی آئی نے جب بھی شکایت کی ان کا علاج کیا گیا، اس معاملے کو سیاسی انداز میں آگے بڑھانا اور کہنا یہ بہت بڑا جرم ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر جیل سپرنٹنڈنٹ یا اس سائیڈ سے کوئی شخص سیاست کرے تو وہ بہت بڑا جرم ہے۔
رانا ثنا نے کہا کہ ان کا ملک میں جو سب سے اچھا علاج ہے وہ کرایا گیا ہے، کینسر اسپتال میں پمز سے اچھا کوئی ڈاکٹر ہے تو اس سے بھی چیک کروایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے دونوں رپورٹس دیکھ کر کہا ہے انہیں مزید کسی ماہر ڈاکٹر سے چیک کروایا جائے،
بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کیساتھ بیٹھ کر جو بھی بات ہوئی ہے اس پر عمل کیا جائے گا، اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ کسی کی صحت پر آپ کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے اگر آپ کو اس میں مزید کچھ کہنا ہے تو آپ سپریم کورٹ چلے جائیں علامہ راجہ ناصر عباس صاحب آپ کو بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔
رانا ثنا اللہ کے بیان پر سینیٹ میں پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا اور پی ٹی آئی سینیٹرز اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔
سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی سینیٹرز نے اپنے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی تصویریں لگا رکھی ہیں ان تصویروں کو یہاں سے ہٹایا جائے، سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ ہم اگر تصویریں لے کر آئے تو ہم اور بھی بہت سی تصویریں لے کر آئیں گے، وہ تصویریں بھی لائیں گے پھر آپ کو تکلیف ہوگی۔
پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین نے اس چیز پر رولنگ دی ہوئی ہے کہ کسی کی تصویر نہیں لگائی جاسکتی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ہاؤس مقدم ہے یہاں ہم سگریٹ نہیں پیتے پانی نہیں پیتے۔ پریذائیڈنگ افسر نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر ہٹانے کی ہدایت کردی۔
پے در پے جملے بازی سے ایوان میں شدید بدنظمی ہوئی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہم ایوان کی کارروائی معطل کردیں گے۔
اجلاس میں پریذائیڈنگ افسر وقار مہدی نے اپنی چھٹی کی درخواست خود ہی منظور کرلی۔ جلاس میں ایجنڈے پر کارروائی شروع ہوئی۔ سینیٹ میں پاکستان شہریت ایکٹ 1951ء میں ترمیم کا بل ایوان سے پاس کرلیا گیا۔ یہ بل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیش کیا۔
سینیٹ میں پیمرا آرڈیننس میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔ بل وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
ایوان میں اخباری ملازمین (شرائط ملازمین) ایکٹ 1973ء میں مزید ترمیم کا بل 2026ء پیش کیا گیا جو کہ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا، ایوان نے اسے بھی منظور کرلیا۔
بھنگ کنٹرول اور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2024ء میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا گیا تاہم اسے کل تک موخر کردیا گیا۔
بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔