بھارتی گلوکار ادت نارائن پر پہلی اہلیہ کے سنگین الزامات، قانونی تنازع شدت اختیار کر گیا
نئی دہلی – بھارت کے عالمی شہرت یافتہ پلے بیک سنگر ادت نارائن ایک مرتبہ پھر قانونی تنازع کی زد میں آ گئے ہیں، اس بار مقدمہ ان کی پہلی اہلیہ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ادت نارائن کی پہلی اہلیہ رنجنا جھا نے ریاست بہار کے ضلع سپول کے خواتین پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے، جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رنجنا جھا کا کہنا ہے کہ 1996 میں انہیں علاج کے بہانے دہلی کے ایک اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کی بچہ دانی نکال دی گئی۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایک مبینہ سازش کے تحت ادت نارائن، ان کے بھائیوں سنجے کمار اور للت نارائن اور دوسری اہلیہ دیپا کی ملی بھگت سے کرائی گئی۔
شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں اس سرجری کے بارے میں کئی برس بعد ایک طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا جس سے وہ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئیں۔
رنجنا جھا نے اپنی درخواست میں یہ بھی بتایا کہ ان کی اور ادت نارائن کی شادی 7 دسمبر 1984 کو ہوئی تھی اور اگلے ہی برس گلوکار اپنے کیریئر کے سلسلے میں ممبئی منتقل ہو گئے تھے۔ بعد ازاں میڈیا رپورٹس سے انہیں ادت نارائن کی دوسری شادی کا علم ہوا۔
ان کے مطابق جب بھی انہوں نے دوسری شادی کے حوالے سے سوال کیا تو انہیں گمراہ کیا جاتا رہا۔ یاد رہے کہ رنجنا جھا کی جانب سے دائر نان و نفقہ کا مقدمہ بھی تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
دوسری جانب ادت نارائن یا ان کی موجودہ اہلیہ دیپا نارائن کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ معاملہ فوجداری نوعیت کا سنگین کیس بن سکتا ہے جس کے سنگین قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔