بیلاروس کا ڈرون شکن لیزر ہتھیار متعارف، شہری تنصیبات کے تحفظ کا دعویٰ
ریاض – بیلاروس نے ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والا نیا لیزر ہتھیار متعارف کرا دیا ہے جسے شہری اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نظام بیلاروسی دفاعی کمپنی لمیٹڈ نے سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے دوران پیش کیا۔
کمپنی کے مطابق لیزر ہتھیار ڈرونز کے آپٹیکل اور نگرانی کے نظام کو نشانہ بنا کر انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مختلف اقسام کے ڈرونز کو مؤثر طور پر غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
اس نظام کی نمایاں خصوصیات میں 50 سے 500 میٹر تک مؤثر رینج، 0.75 سے 2.0 کلو واٹ لیزر پاور اور تقریباً 4 سے 4.5 کلوگرام وزن شامل ہے، جس کے باعث اسے نسبتاً ہلکا اور قابلِ نقل و حمل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی شہری علاقوں میں حساس فوجی اور سویلین تنصیبات، ایئرپورٹس اور اہم انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم فاصلے پر ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے لیزر سسٹمز روایتی فضائی دفاعی نظام کے مقابلے میں کم لاگت اور فوری ردعمل فراہم کر سکتے ہیں۔