حماس نے غزہ میں عالمی امن فورس کی تعیناتی کیلئے شرائط واضح کر دیں
فلسطین میں مجوزہ عبوری انتظام اور جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس سے قبل حماس نے عالمی امن فورس کی تعیناتی کیلئے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں عبوری حکومت، مستقل جنگ بندی اور غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی جیسے اہم امور شامل ہیں جبکہ پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو متوقع ہے۔
حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے کہا ہے کہ اگر عالمی امن فورس تعینات کی جاتی ہے تو اس کا کردار صرف فریقین کے درمیان حفاظتی تہہ فراہم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے تک محدود ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کے سول، سیاسی اور سیکیورٹی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ امن فورس سرحدی علاقوں تک محدود رہے اور داخلی نظم و نسق میں دخل اندازی نہ کرے، بصورت دیگر فلسطینی عوام اسے قابض قوتوں کا متبادل تصور کریں گے۔
حماس نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر عالمی اہلکار غیر جانبدار کردار ادا کریں اور صرف نگرانی تک محدود رہیں تو انہیں غزہ میں تعینات کرنے پر اصولی اعتراض نہیں ہوگا۔
دوسری جانب انڈونیشیا نے ممکنہ امن مشن کیلئے 8 ہزار اہلکار فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جسے غزہ میں جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کی جانب سے شرائط کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنظیم مستقبل کے کسی بھی بین الاقوامی انتظام میں اپنی سیاسی اور سیکیورٹی خودمختاری برقرار رکھنا چاہتی ہے۔