جنوبی افریقہ میں جرائم کے خاتمے کیلئے فوج کی تعیناتی کا اعلان
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا نے ملک میں بڑھتے ہوئے منظم جرائم سے نمٹنے کیلئے فوج کو پولیس کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر نے کہا کہ منظم جرائم اس وقت جنوبی افریقہ کی جمہوریت، معاشرے اور معاشی ترقی کیلئے سب سے بڑا فوری خطرہ بن چکا ہے، جس کے باعث حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔
صدر راما فوسا نے ہدایت کی کہ ساؤتھ افریقن نیشنل ڈیفنس فورس پولیس کے ساتھ مل کر گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کرے۔ اس مقصد کیلئے ویسٹرن کیپ اور گاؤٹنگ میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا عملی منصوبہ چند دنوں میں تیار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور مربوط قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی تیز کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی رواں سال مزید 5 ہزار 500 پولیس اہلکار بھرتی کئے جائیں گے اور اسلحہ قوانین کو سخت بنایا جائے گا۔
صدر کا کہنا تھا کہ جرائم کی قیمت انسانی جانوں کے ضیاع اور نوجوان نسل کے مستقبل کی تباہی کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جسے روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فوج کی تعیناتی جنوبی افریقہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے، تاہم اس اقدام کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔