امریکہ نے یمن کے لیے عارضی حفاظتی حیثیت ختم کر دی، متاثرین کو واپسی کیلئے 60 دن کی مہلت
واشنگٹن – امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نویم نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یمن کے لیے عارضی حفاظتی حیثیت (Temporary Protected Status – TPS) ختم کر دی ہے۔
وزیر نویم نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور متعلقہ امریکی سرکاری اداروں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ یمن اب TPS دینے کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پروگرام عارضی رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور امریکی قومی سلامتی کے مفادات ترجیحی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ TPS سے فائدہ اٹھانے والے یمنی شہری، جن کے پاس امریکہ میں رہنے کا کوئی اور قانونی جواز نہیں ہے، کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ متاثرین اپنی روانگی کی اطلاع دینے کے لیے امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کی ‘CBP Home’ ایپ استعمال کر سکتے ہیں، جس میں مفت ہوائی ٹکٹ، 2600 ڈالر کا روانگی بونس اور مستقبل میں قانونی ہجرت کے مواقع شامل ہیں۔
وزیر نویم نے خبردار کیا کہ TPS کے خاتمے کے مؤثر ہونے کے بعد ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی غیر مقیم یمنی شہری کو اس کی عارضی حفاظت کی مدت ختم ہونے کے بعد گرفتار اور ڈی پورٹ کر سکے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس فیصلے سے کتنے یمنی متاثر ہوں گے۔
واضح رہے کہ عارضی حفاظتی حیثیت ان ممالک کے افراد کو دی جاتی ہے جو قدرتی آفات، مسلح تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات کا شکار ہوں، اور اس کے تحت مہاجرین کو ورک پرمٹ اور ملک بدری سے عارضی تحفظ ملتا ہے۔ یمن کو یہ حیثیت 3 ستمبر 2015 کو جاری کی گئی تھی، اور امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے 2017، 2018، 2020، 2021، 2023 اور 2024 میں اس میں توسیع کی تھی۔