برطانیہ اور یورپی اتحادی کا ناوالنی زہر معاملے کے بعد روس پر نئی پابندیوں پر غور

0

لندن –  برطانیہ اور اس کے یورپی اتحادی سویڈن، فرانس، جرمنی، اور نیدرلینڈز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی پر مبینہ طور پر استعمال ہونے والے زہر کے بارے میں تحقیقات مکمل کر لی ہیں، اور ماسکو کے خلاف ممکنہ نئی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ یوٹی کوپر نے سنڈے پروگرام پر کہا کہ ناوالنی کے زہر دینے کا الزام "گہرا اور سنگین” ہے اور دو سال کی شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "صرف روسی حکومت کے پاس یہ زہر استعمال کرنے کا ذریعہ، موقع اور مقصد تھا، جب ناوالنی روسی جیل میں قید تھے۔”

ناوالنی کے جسم میں پایا گیا زہر اور اس کا ماخذ

ناوالنی کے جسمانی نمونوں کے تجزیے سے ایپی بیٹیڈائن نامی کیمیائی ٹاکسن کی موجودگی سامنے آئی، جو جنوبی امریکہ میں جنگلی مینڈکوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ برطانیہ اور اتحادیوں نے کہا کہ ناوالنی نے یہ زہر حادثاتی طور پر نہیں لیا ہو گا کیونکہ یہ روس میں عام طور پر نہیں پایا جاتا اور صرف جنگلی جنوبی امریکی مینڈک ہی اس کی پیداوار کرتے ہیں۔

بین الاقوامی اداروں کو اطلاع

ان پانچ یورپی ممالک نے روس پر الزام عائد کرنے کے بعد اسے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی بین الاقوامی تنظیم (OPCW) کو بھی مطلع کیا اور کہا کہ ماسکو نے بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی کی ہے۔

برطانیہ کا موقف

یوٹی کوپر نے اس واقعے کو یورپ میں "سرد جنگ کے امن کے خاتمے” کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ مغربی ممالک کو روس کی ممکنہ جارحیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ روس پر بڑھتی ہوئی پابندیوں سمیت "منظم اور مربوط اقدامات” پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر یوکرین پر روس کے حملے کے ردعمل کے طور پر۔

کوپر نے زور دیا کہ برطانیہ اپنے یورپی اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر کے روسی حکومت پر دباؤ برقرار رکھے گا، اور یہ شراکت داری ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے اہم ہے۔

امریکی ردعمل

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن پانچ یورپی اتحادیوں کے نتائج پر سوال نہیں اٹھائے گا اور ان کی رپورٹ پر اعتراض نہیں ہے۔ روبیو نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ان اتحادیوں کی اپنی انٹیلی جنس کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، اور امریکہ اس معاملے میں براہِ راست شامل نہیں ہوا۔

روس کی تردید

لندن میں روسی سفارت خانے نے اس الزام کو جھوٹا اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کے دعوے ناوالنی کی موت کے سلسلے میں "کمزور فابلسٹ ذہنیت” کی عکاسی کرتے ہیں۔ سفارت خانہ نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ "مغربی افواہوں اور میڈیا ہسٹریا کا حصہ” ہے اور حقیقت کے برعکس ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ یورپ میں روسی جارحیت کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ماسکو کے لیے ممکنہ اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی ممکنہ پابندیاں روسی حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ عالمی برادری انسانی حقوق اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے میں سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.