قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

تحریر: اعجاز شاہق

0

قوم پرستی ایک دلکش نعرہ ہے۔ اس کے ساتھ غیرت، شناخت، قربانی اور آزادی جیسے الفاظ جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر وہ آواز جو قوم کے نام پر بلند ہو، لازمی نہیں کہ قوم کے مفاد میں ہو۔ بعض اوقات قوم پرستی ایک سیاسی ہتھیار بن جاتی ہے جسے بیرونی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اور یوں وہ لوگ جو خود کو قوم کا سب سے بڑا ہمدرد کہتے ہیں، عملاً اسی قوم کے لیے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست کا ایک سادہ اصول ہے کہ ریاستیں اپنے مخالف ممالک کو میدان جنگ میں کم اور اندرونی انتشار کے ذریعے زیادہ کمزور کرتی ہیں۔ نسلی، لسانی اور علاقائی جذبات کو ہوا دینا اس حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کے اندر ایسا بیانیہ پروان چڑھے جو مسلسل ریاستی اداروں کو ہدف بنائے، قومی وحدت کو مشکوک قرار دے اور داخلی استحکام کو ثانوی بنا دے، تو اس کا فائدہ لازماً بیرونی قوتوں کو ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نعرہ کیا ہے، سوال یہ ہے کہ نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور کس کے حق میں جا رہا ہے۔

کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اور بھی حساس ہو جاتی ہے۔ کشمیر کا تنازعہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے جس میں پاکستان فریق ہے۔ اگر پاکستان کمزور ہوگا تو سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیر کا مقدمہ بھی کمزور پڑے گا۔ اس پس منظر میں جب کوئی گروہ پاکستان کو ہی بنیادی مسئلہ قرار دیتا ہے اور دشمن ریاست کے کردار پر خاموشی اختیار کرتا ہے، تو اس کے مؤقف پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ تاریخ میں ایسے سیاسی فیصلے بھی ہوئے جنہوں نے کشمیری صفوں میں تقسیم پیدا کی۔ تقسیم کا نتیجہ ہمیشہ طاقتور فریق کے حق میں نکلتا ہے۔ اس لیے یہ جائز سوال ہے کہ کیا بعض قوم پرست بیانیے نے عملاً وہی راستہ ہموار نہیں کیا جس سے مخالف ریاست کو فائدہ پہنچا؟

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عوامی تحریکیں اکثر اپنے اصل مطالبات سے ہٹ جاتی ہیں۔ ابتدا میں معاشی یا سماجی مسئلہ ہوتا ہے، پھر اس میں سیاسی رنگ شامل ہوتا ہے، اور بالآخر وہ ریاست مخالف بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ جب تحریک کا محور عوامی مسائل کے حل کے بجائے ریاست کی بنیاد کو چیلنج کرنا بن جائے تو اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بیرونی طاقتوں کے لیے یہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اس بیانیے کو عالمی سطح پر اپنے حق میں استعمال کریں۔ یوں قوم کے نام پر اٹھنے والی آواز، قوم ہی کے خلاف ایک نفسیاتی اور سیاسی محاذ بن جاتی ہے۔

بلوچستان کی مثال بھی اسی تناظر میں زیر بحث آتی ہے۔ اگر کوئی تحریک ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرے، اسکولوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچائے یا عام شہریوں کو نشانہ بنائے، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی کو ہوتا ہے۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع تباہ ہوں تو نقصان قوم کا ہوتا ہے، فائدہ کسی اور کا۔ اگر بیرونی میڈیا اور قوتیں ایسے واقعات کو اپنے سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کریں، تو سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا یہ جدوجہد واقعی مقامی مفاد کے لیے ہے یا کسی بڑی طاقت کی بساط کا حصہ بن چکی ہے؟

جدید دور میں جنگ صرف اسلحے سے نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیے کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں یہ سوچ عام کر دی جائے کہ ریاست ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور بیرونی دباؤ نسبتاً کم نقصان دہ ہے، تو عوامی ذہن سازی ایک مخصوص سمت میں ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قوم پرستی کا نعرہ ایک خطرناک موڑ لے سکتا ہے۔ نعرہ قوم کا ہوتا ہے مگر عملی فائدہ دشمن کو پہنچتا ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ اختلاف رائے کو دبانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ لیکن اختلاف اور تخریب میں فرق ہے۔ آئینی جدوجہد اور مسلح یا بیرونی حمایت یافتہ مہم میں واضح فرق ہوتا ہے۔ اگر کوئی گروہ شفاف سیاسی عمل کے بجائے انتشار، تشدد یا بیرونی سرپرستی کا راستہ اختیار کرے تو اس پر سوال اٹھانا غداری نہیں بلکہ سیاسی ذمہ داری ہے۔

اصل کسوٹی یہ ہے کہ کسی نظریے یا تحریک کا نتیجہ کیا ہے۔ کیا اس سے عوام کے حالات بہتر ہو رہے ہیں؟ کیا اتحاد مضبوط ہو رہا ہے؟ کیا دشمن کے مقابلے میں قومی پوزیشن مستحکم ہو رہی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور اس کے برعکس تقسیم، کمزوری اور بداعتمادی بڑھ رہی ہے تو پھر اس قوم پرستی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ قوم کے نام پر سیاست کرنا آسان ہے، قوم کے مفاد کو مقدم رکھنا مشکل۔ جو لوگ اس فرق کو مٹا دیتے ہیں، وہ چاہے شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر، بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن سکتے ہیں۔

قوم پرستی تب تک قابل احترام ہے جب تک وہ اپنی قوم کی اجتماعی طاقت، استحکام اور ترقی کا ذریعہ ہو۔ لیکن اگر وہ نفرت، تقسیم اور ریاستی کمزوری کا سبب بن جائے تو پھر اسے تنقید سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ قوم کے نام پر کی جانے والی ہر سیاست کو اسی معیار پر پرکھنا ہوگا، کیونکہ آخرکار نقصان بھی قوم ہی کو اٹھانا پڑتا ہ

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.