امریکی شہری حقوق کے رہنما جیسی جیکسن 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
واشنگٹن – امریکا کے معروف سیاسی، مذہبی اور انسانی حقوق کے رہنما جیسی لویس جیکسن 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ سیاہ فام امریکیوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کے باعث عالمی سطح پر پہچانے جاتے تھے۔
جیسی جیکسن 8 اکتوبر 1941 کو امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1984 اور 1988 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے امیدوار بنے، تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے باوجود ان کی انتخابی مہم نے امریکی سیاست میں سیاہ فام قیادت کے کردار کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سفارتی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں بھی جیسی جیکسن پیش پیش رہے۔ 1984 میں انہوں نے شام میں یرغمال بنائے گئے ایک امریکی بحریہ کے پائلٹ کی رہائی میں کردار ادا کیا۔ اسی سال انہوں نے کیوبا کا دورہ کر کے جیلوں میں قید 22 امریکی اور 26 کیوبن شہریوں کی رہائی میں مدد کی۔
خلیجی جنگ کے دوران 1990 میں انہوں نے عراقی حکومت کے پاس موجود امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں کیں۔ بعد ازاں وہ 1991 سے 1997 تک امریکی کانگریس کے غیر منتخب (شیڈو) رکن کے طور پر وابستہ رہے اور سماجی انصاف، ووٹنگ رائٹس اور معاشی مساوات کے موضوعات پر سرگرم رہے۔
جیسی جیکسن کو امریکی شہری حقوق کی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی وفات کو امریکا میں نسلی برابری اور سماجی انصاف کی جدوجہد کے ایک اہم باب کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔