امریکہ کے ساتھ بات چیت میں حقیقی اور ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایرانی صدر

0

تہران – ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ایٹمی مذاکرات کے اختتام کے بعد ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت میں حقیقی اور ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر بزشکیان نے علما کے اجتماع سے خطاب میں واضح کیا کہ یہ مذاکرات ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی مکمل اجازت اور ہم آہنگی کے تحت ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف بات چیت کرنا نہیں بلکہ مسائل کو عملی طور پر حل کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کسی کوشش میں ملوث نہیں اور اگر کوئی فریق اس کی تصدیق چاہے تو ہم ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مذاکرات کے دوران مثبت پیش رفت کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی اصولوں پر مفاہمت حاصل کی گئی ہے اور اب امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے واضح راستہ موجود ہے۔ تاہم عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کا سفر ابھی جاری ہے اور ابھی کچھ اہم معاملات پر مزید کام درکار ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور دونوں ممالک کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ جاری رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ بارہا ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، مگر ایران کا موقف ہے کہ مذاکرات صرف ایٹمی فائل تک محدود ہیں اور میزائل پروگرام ایک خودمختار قومی مسئلہ ہے۔

یہ پیش رفت گذشتہ دور کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جو 6 فروری 2026 کو مسقط میں ہوئے تھے اور مثبت قرار دیے گئے تھے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.