امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، فلسطینی طالب علم کو ڈی پورٹ کرنے کی کوشش ناکام
واشنگٹن – امریکا میں امیگریشن جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی نژاد طالب علم کو ملک بدر کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے، جسے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محسن مہدوی کو گزشتہ برس فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے کیمپس مظاہروں میں شرکت کے باعث گرفتار کیا گیا تھا۔ امیگریشن حکام نے انہیں ملک بدر کرنے کی کارروائی شروع کی تھی تاہم امیگریشن جج نینا فروئز نے 13 فروری کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ طالب علم کی بے دخلی قانونی طور پر درست ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ حکام نے اپنے مؤقف کے حق میں ایک غیر مستند دستاویز پیش کی جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط ظاہر کیے گئے تھے، تاہم اسے قابلِ اعتماد ثبوت تسلیم نہیں کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد محسن مہدوی نے اسے آزادیٔ اظہار کے حق کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خوف کے ماحول کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔ ان کے وکلا نے فیصلے کی تفصیلات نیویارک کی وفاقی عدالت میں بھی جمع کرا دی ہیں جو اس معاملے کا مزید جائزہ لے رہی ہے۔
محسن مہدوی کا تعلق مغربی کنارے سے ہے اور وہ ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں اپریل 2025 میں امریکی شہریت کے انٹرویو کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایک وفاقی جج نے حکم دیا تھا کہ انہیں ڈی پورٹ نہ کیا جائے اور ریاست ورمونٹ سے منتقل بھی نہ کیا جائے۔ دو ہفتے حراست میں رکھنے کے بعد امریکی ڈسٹرکٹ جج جیفری کرافورڈ نے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
یہ حالیہ مہینوں میں ایسا دوسرا کیس ہے جس میں عدالت نے فلسطین کے حق میں سرگرمیوں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔ اس سے قبل ٹفٹس یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی طالبہ رومیسا اوزترک کے خلاف بھی انتظامیہ کی کارروائی امیگریشن عدالت نے معطل کر دی تھی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو بورڈ آف امیگریشن اپیلز میں چیلنج کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اس کیس کے نتائج امریکی جامعات میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ اور آزادیٔ اظہار کے مباحث پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔