مزاحمت ہمارا حق، غیر مسلح ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حماس

0

غزہ — فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ مزاحمت ان کا “دستوری اور قانونی حق” ہے اور غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے تک کسی بھی سیاسی سمجھوتے کا امکان نہیں، جبکہ غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔

بورڈ آف پیس پر تحفظات

حماس نے امریکی سرپرستی میں قائم بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اس پلیٹ فارم کو “ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنے فوجی اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

انتظامی امور پر آمادگی

بیان میں کہا گیا کہ حماس شہری نظم و نسق کسی غیر سیاسی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے، تاہم تعمیر نو کے نام پر فلسطینی حقوق پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔

حماس نے زور دیا کہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فلسطینی علاقوں پر حملے بند نہیں ہو جاتے اور محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔

اس بیان کے بعد خطے میں جاری جنگ بندی اور ممکنہ سیاسی عمل کے مستقبل پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.