ایران پر محدود فوجی کارروائی کا امکان، امریکا کا جنگی سازوسامان مشرقِ وسطیٰ منتقل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایٹمی معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے عندیے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے کسی معاہدے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں جس میں واشنگٹن کے تمام مطالبات پورے ہوں۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات جاری ہونے کے باوجود امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی تیاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکی ایئر لفٹر اور ریفیولنگ طیارے پرتگال اور برطانیہ پہنچ چکے ہیں، جبکہ اردن میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سربیا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جو ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی داخلی سیاست میں بھی اس معاملے پر اختلاف سامنے آیا ہے، جہاں اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر محدود فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈی اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔