سفارت کاری یا جنگ، دونوں کےلئے تیارہیں— ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی

0

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ایک طرف سفارتی حل کے لیے تیار ہے تو دوسری جانب کسی بھی ممکنہ فوجی صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئندہ دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا جائے گا، جسے ایرانی اعلیٰ قیادت کی منظوری کے بعد امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں نہ تو ایران نے یورینیم افزودگی روکنے کی کوئی پیش کش کی ہے اور نہ ہی امریکا کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت کا محور ایران کے جوہری پروگرام کے پُرامن نوعیت کو یقینی بنانا ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، اس لیے سفارتی راستہ ہی واحد قابلِ عمل آپشن ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور ممکنہ فوجی دباؤ کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ابتدائی مسودہ واقعی تیار ہو جاتا ہے تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی علامت ہو سکتی ہے، تاہم حتمی معاہدہ ایرانی سپریم قیادت اور واشنگٹن کی سیاسی منظوری سے مشروط ہوگا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.