معروف فلم ساز سید نور کی سالگرہ، پاکستانی سینما کے لیے گراں قدر خدمات پر خراج تحسین
پاکستان کے نامور فلم ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور مصنف سید نور کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی، جس پر شوبز انڈسٹری اور مداحوں کی جانب سے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا۔
سید نور، جن کا پورا نام سید غلام محی الدین نور ہے، 21 فروری 1950 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1970 میں فلمی کیریئر کا آغاز ہدایتکار ایس سلیمان کے اسسٹنٹ کے طور پر کیا اور 18 فیچر فلموں میں ان کے ساتھ کام کیا۔
بطور مصنف شاندار کامیابیاں
انہوں نے 1976 میں فلم سوسائٹی گرل کے لیے اپنا پہلا سکرپٹ تحریر کیا جو سال کی بہترین فلم قرار پائی۔ 1976 سے 1992 کے دوران انہوں نے تقریباً 250 فلموں کے سکرپٹ اور سکرین پلے لکھے، جو اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تھے۔ بطور مصنف انہیں نیشنل ایوارڈ، نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ، بولان ایوارڈ اور ایشین ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات ملے۔
ہدایتکاری میں نئی جہت
1993 میں انہوں نے فلم قسم سے ہدایتکاری کا آغاز کیا، جبکہ جیوا اور سرگم نے اردو سینما کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کئی نئے اداکاروں کو متعارف کرایا اور پاکستانی فلم انڈسٹری میں نئی روح پھونکی۔
پنجابی سینما کی کامیاب فلمیں
پنجابی فلموں کے زوال کے بعد سید نور نے فلم چوڑیاں بنائی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی اور آج بھی پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب پنجابی فلمیں بھی ہدایت کیں۔
فلمی تعلیم اور اعزازات
نئی نسل کو فلم سازی کی تربیت دینے کے لیے انہوں نے پیراگون اسٹوڈیوز اور پیراگون اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس قائم کی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ساتھ مل کر فلم کو بطور مضمون بھی پڑھایا۔
تقریباً 300 فلمیں لکھنے، 55 فلموں کی ہدایت کاری اور متعدد قومی اعزازات کے بعد انہیں پاکستان کے اعلیٰ سول اعزاز ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
ان کی سالگرہ کے موقع پر شوبز انڈسٹری، فنکار برادری اور مداحوں نے ان کی خدمات کو پاکستانی سینما کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔