غزہ – غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے نام نہاد “یلو لائن” کو رہائشی علاقوں تک توسیع دیتے ہوئے تقریباً 60 فیصد رقبے پر عملی کنٹرول قائم کر لیا ہے، جس کے باعث لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے لیے دستیاب جگہ مزید محدود ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا کہ شدید انسانی ضروریات کے باوجود اب تک غزہ میں ایک بھی موبائل ہوم داخل نہیں ہو سکا، جبکہ ہزاروں خاندان بوسیدہ خیموں یا کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو دیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پناہ گاہوں کے حوالے سے کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا اور انسانی ہمدردی کے معاہدوں میں شامل تیار شدہ گھروں کی آمد کی اجازت نہ ملنے سے بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں
امجد الشوا کے مطابق “یلو لائن” کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث بالخصوص غزہ کے مشرقی اور شمالی علاقوں کے رہائشی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:
-
شہریوں کے لیے دستیاب زمین تیزی سے کم ہو رہی ہے
-
امدادی اداروں کی رسائی محدود ہو گئی ہے
-
سب سے زیادہ متاثر طبقات تک امداد پہنچانا مشکل ہو گیا ہے
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کے باعث مقامی و بین الاقوامی امدادی کارروائیاں پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔
راہداریاں کھولنے کا مطالبہ
فلسطینی سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
-
انسانی امداد کی ترسیل کے لیے تمام راہداریاں مکمل اور مستقل طور پر کھولی جائیں
-
تعمیراتی سامان اور تیار شدہ گھروں کی آمد پر پابندیاں ختم کی جائیں
ان کے مطابق تعمیراتی مواد پر پابندیوں کے باعث کئی ماہ سے جاری رہائشی بحران کا کوئی عملی حل سامنے نہیں آ سکا۔
“یلو لائن” کیا ہے؟
“یلو لائن” سے مراد وہ علاقے ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے سرحدی بفر زون قرار دیا ہے یا جہاں اس کی فوجی موجودگی ہے۔ ان علاقوں میں شہریوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے، جس کے باعث رہائش اور زرعی سرگرمیوں کے لیے دستیاب زمین مسلسل سکڑ رہی ہے۔