ایران جنگ کو شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور اب پیر کو ایشیا کی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت اس وقت 115.84 ڈالر ہے جو 2.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے قبل تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔
گذشتہ ہفتے 19 مارچ کو قیمت 118 ڈالر تک پہنچی تھی اور جمعے کی دوپہر تک یہ 112 ڈالر سے کچھ کم پر تھی۔ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ ماہانہ اضافے کا امکان ہے۔
میڈیا سے گفتگوں میں حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو حکومت کو قیمتیں بڑھانی پڑیں گی لیکن کم آمدن والے افراد کے لیے حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی، پیٹرولم کی راشننگ (کوٹہ) مختص کرنے جیسے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
پاکستان کے پاس اگلے چار سے پانچ ہفتوں کی ضرورت کے لیے درکار خام تیل کی سپلائی یا انوینٹری موجود ہے تاہم اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو حکومت کو کچھ اقدامات کرنے پڑیں گے۔
