دو سال کے دوران ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم میں تقریباً گیارہ ارب روپے کی بےضابطگیوں کا انکشاف ہواہے، وزارت خزانہ نے رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی۔جس میں اعتراف کیا کہ ایف بی آر کی نگرانی کے باوجود اسکیم کے غلط اسکیم کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں تاہم ذمہ داروں کیخلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
وفاقی وزیرخزانہ جناب محمد اورنگزیب کی جانب سےایکسپورٹ فیسلٹیشن سکیم میں بدعنوانیوں سے متعلق سینیٹ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی اور اس اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات متعارف کرائے گئے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو اپنے فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے اسکیم کے نفاذ کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہا ہے تاکہ بدعنوان عناصر کی جانب سے اس سہولت کے غلط استعمال کا پتہ چلایا جا سکے اور اسے روکا جا سکے۔ کمشنر فیلڈ فارمیشنز کی کاوشوں کے نتیجے میں مالی سال دوہزار چوبیس پچیس سے دسمبر دوہزار پچیس کے دوران اب تک 10ارب 90 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق پچانوے کروڑ نوےلاکھ روپےکی وصولی کرلی گئی ہے۔
