ٹرمپ کے خلاف 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی کا مطالبہ، امریکی ایوان نمائندگان کا اجلاس 14 اپریل کو متوقع

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد آج پیش

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے صدر Donald Trump کے خلاف آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے تحت صدر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے اگر وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔

امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے مطابق نائب صدر JD Vance اور کابینہ کی اکثریت اگر یہ قرار دے کہ صدر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل نہیں رہے تو وہ کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر سکتے ہیں، جس کے بعد صدر کے اختیارات نائب صدر کو منتقل ہو سکتے ہیں۔

تاہم فی الحال اس بات کے کوئی واضح اشارے موجود نہیں کہ نائب صدر یا کابینہ اس اقدام پر غور کر رہی ہے۔

ڈیموکریٹک قانون سازوں نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جو نسل کشی جیسے سنگین جنگی جرائم کی دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ٹرمپ کو جوہری ہتھیاروں کے کوڈز تک رسائی حاصل ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔

کانگریس کی رکن Alexandria Ocasio-Cortez نے کہا کہ صدر کے بیانات نہ صرف عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں بلکہ ان کی ذہنی حالت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔

ایوانِ نمائندگان کے سینئر ڈیموکریٹس نے ریپبلکن ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ووٹ دیں، بصورت دیگر صدر ٹرمپ دنیا کو ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ کسی تہذیب کو مٹانے جیسے بیانات انتہائی خطرناک ہیں اور اس پر کانگریس کو فوری اور فیصلہ کن ردعمل دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اس وقت تعطیلات پر ہے اور اس کا اگلا اجلاس 14 اپریل کو متوقع ہے، جہاں اس معاملے پر مزید پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے