امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے ویٹیکن میں Pope Leo XIV سے ملاقات کی، جسے امریکا اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق یہ ملاقات ہولی سی اور امریکا کے درمیان “مضبوط تعلقات” کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے امن، انسانی وقار اور عالمی استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم پر زور دیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران جنگ کے معاملے پر واشنگٹن اور ویٹیکن کے درمیان تناؤ پایا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور جنگی پالیسیوں پر پوپ لیو XIV نے ماضی میں تنقیدی مؤقف اختیار کیا تھا۔
پوپ لیو XIV امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں، اور ان کی قیادت میں ویٹیکن عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی اور انسانی بنیادوں پر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ویٹیکن میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں پوپ لیو XIV اور مارکو روبیو کو ویٹیکن کی نجی لائبریری میں ملاقات اور تحائف کا تبادلہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
