موساد کے نئے سربراہ کی خلاف میرٹ تقرری منسوخ کی جائے، اسرائیلی ہائی کورٹ میں سماعت

موساد کے نئے سربراہ کی تقرری منسوخ کرنے کی درخواست پر اسرائیلی ہائی کورٹ میں سماعت

اسرائیل کی ہائی کورٹ آف جسٹس میں ایک اہم درخواست کی سماعت شروع ہو گئی ہے جس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل رومن گوفمین کو ملکی خفیہ ایجنسی موساد کا نیا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست Ori Elmakayes اور Telem – دی موومنٹ فار انٹیگریٹی ان گورنمنٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجوزہ تقرری شفافیت اور انتظامی دیانت داری کے اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست میں خاص طور پر میجر جنرل رومن گوفمین کے ماضی کے ایک مبینہ معاملے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اثر و رسوخ سے متعلق کارروائی کے دوران مبینہ بدانتظامی کی۔

درخواست گزاروں کے مطابق گوفمین نے اس معاملے میں نہ صرف تفصیلات سے آگاہ ہونے کے باوجود مناسب کارروائی نہیں کی بلکہ بعض بیانات میں مبینہ طور پر غلط معلومات بھی فراہم کیں۔ ان کے مطابق سینئر اپوائنٹمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے سابق صدر اشر گرونس نے بھی اس تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے گوفمین کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس درخواست اور اٹارنی جنرل کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موساد کے سربراہ کی تقرری کا اختیار قانون کے مطابق صرف وزیر اعظم کو حاصل ہے اور اس معاملے میں عدالتی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ موساد کے موجودہ سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی اس تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو ایک خط بھی ارسال کیا تھا۔

عدالتی کارروائی جسٹس ڈیفنی بارک ایریز کی سربراہی میں جاری ہے، جبکہ بینچ میں جسٹس الیکس اسٹین اور جسٹس یچیل کاشر بھی شامل ہیں۔ عدالت میں یہ کیس انتظامی اختیارات، سکیورٹی اداروں کی تقرری اور عدالتی نگرانی کے دائرہ کار جیسے اہم آئینی سوالات کو بھی سامنے لا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے