حسرت موہانی اردو ادب کے عظیم شاعر، مجاہدِ آزادی اور سیاسی رہنما تھے جن کی آج 75ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ حسرت موہانی نے نہ صرف اردو شاعری میں لازوال خدمات انجام دیں بلکہ برصغیر کی آزادی کی تحریک میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا جبکہ “حسرت” ان کا تخلص تھا۔ وہ 4 اکتوبر 1875 کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ موہان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ سے 1903 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ عربی اور فارسی زبان پر بھی انہیں گہری دسترس حاصل تھی۔
ادبی دنیا میں حسرت موہانی کو “رئیس المتغزلین” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی غزل گوئی نے اردو ادب کو نئی جہت عطا کی جبکہ ان کا مشہور کلام آج بھی زبان زدِ عام ہے۔ وہ شروع ہی سے شاعری کے شوقین تھے اور اپنے کلام کی اصلاح معروف شعرا سے کرواتے رہے۔
1903 میں انہوں نے معروف ادبی جریدہ “اردوئے معلیٰ” جاری کیا جو اس دور کے علمی و ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔ حسرت موہانی سودیشی تحریک کے سرگرم حامی تھے اور برطانوی استعمار کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔
1907 میں ایک انقلابی مضمون شائع کرنے پر انہیں پہلی مرتبہ قید کیا گیا، جس کے بعد 1947 تک کئی بار جیل جانا پڑا۔ قید و بند اور مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی بلکہ شاعری اور ادبی خدمات سے بھی رشتہ نہ توڑا۔
حسرت موہانی سیاسی طور پر بھی ایک منفرد شخصیت تھے۔ وہ Communist Party of India کے بانی اراکین میں شمار ہوتے تھے۔ مذہبی وابستگی اور روحانیت کے اعتبار سے بھی ان کی زندگی نمایاں رہی اور انہوں نے مجموعی طور پر 13 حج ادا کیے۔
Hasrat Mohani 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ ان کی شاعری، سیاسی جدوجہد اور فکری خدمات آج بھی اردو ادب اور تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
