امریکہ اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ Strait of Hormuz سے گزرنے والے تجارتی اور بردار جہازوں پر کسی قسم کا اضافی ٹیکس یا فیس عائد نہیں ہونی چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Iran کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کنٹرول یا مالیاتی پابندیوں سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
Marco Rubio نے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کا محفوظ اور کھلا رہنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی زور دیا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین، جو مشرق وسطیٰ سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، نہیں چاہتا کہ آبنائے ہرمز میں اضافی لاگت یا رکاوٹیں پیدا ہوں کیونکہ اس سے توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
امریکا نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں میں خلل عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بے یقینی کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں کشیدگی یا اضافی مالیاتی پابندیاں عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔
