بھارت کے سابق آرمی چیف Manoj Naravane نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو یکساں نوعیت کے معاشی و سماجی مسائل کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق آرمی چیف نے کہا کہ خطے کے عام لوگوں کی ترجیحات سیاست سے مختلف ہیں اور انہیں روزگار، معیشت اور بنیادی ضروریات جیسے مسائل درپیش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب عوام کے درمیان روابط اور دوستی سے ہی ریاستی سطح پر تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
اسی حوالے سے بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر Rajeev Shukla نے بھی کہا کہ بعض حلقوں میں پاکستان کے ساتھ بات چیت، ویزا سہولتوں، تجارت اور کرکٹ روابط کی حمایت سامنے آ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کی انتہا پسند تنظیم Rashtriya Swayamsevak Sangh کے ایک رہنما دتاتریہ ہوسابالے نے بھی اشارہ دیا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔
ان کے مطابق سفارتی تعلقات کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ تجارت، رابطے اور عوامی سطح پر روابط برقرار رکھے جائیں، اور ویزا پالیسیوں میں نرمی کے ذریعے اعتماد سازی کو فروغ دیا جائے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری یا بگاڑ سے متعلق مختلف سیاسی اور اسٹریٹجک مباحث جاری ہیں۔
