فنڈز کی عدم دستیابی اور بڑھتی لاگت آبی منصوبوں میں رکاوٹ بننے لگی۔ پاکستان کے بڑے آبی منصوبوں سمیت کئی پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوگئے۔
دستاویز کے مطابق داسو، مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کئی دہائیوں تک بھی مکمل نہیں ہوں گے، متعدد منصوبے کو مکمل ہونے میں 1000 سال سے زائد عرصہ لگنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی کمی کے باعث منصوبوں کی تکمیل کے لیے صدیوں کا وقت دے دیا گیا۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق موجودہ فنڈنگ کے حساب سے داسو ہائیڈرو پراجیکٹ 65 برس میں مکمل ہوگا، داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 1737 ارب روپے درکار ہیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں منصوبے کے لیے 145 ارب روپے چاہئیں، موجودہ فنڈنگ کے تناسب سے دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل 46 برس میں ممکن ہے۔
آئندہ سال کے بجٹ میں 93 ارب 77 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی کل لاگت 1049 ارب روپے ہے۔
مہمند ڈیم کی تکمیل کے لیے 14 برس درکار ہیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 58 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مہمند ڈیم منصوبے کی کل لاگت 337 ارب روپے سے زائد ہے۔
مالی حالات کے تناسب سے کچی کینال منصوبہ 112 سال میں مکمل ہوگا، کراچی کا ’’کے فور‘‘ گریٹر واٹر سپلائی منصوبہ 10 سال میں مکمل ہوگا، کے فور کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں 31 ارب75 کروڑ سے زائد درکار ہے۔ کراچی کے منصوبے کی مجموعی لاگت 175 ارب روپے سے زائد ہے۔
موجودہ فنڈنگ میں نولانگ ڈیم کی تعمیر 122 سال میں مکمل ہوگی، چشمہ رائٹ بینک کینال کی تعمیر کےلئے ایک ہزار 891 برس درکار ہوں گے۔ 194 ارب روپے کا فلڈ پروٹیکشن پلان 972 سال میں مکمل ہوگا۔
