یورپی ملک Latvia کی وزیراعظم Evika Siliņa نے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاسی بحران کی ابتدا 7 مئی کو اس وقت ہوئی جب Ukraine کے دو جنگی ڈرون روسی حدود سے گزرنے کے بعد Latvia کی فضائی حدود میں داخل ہوگئے اور مشرقی شہر Rēzekne میں ایک آئل ڈپو کے خالی ٹینکوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ ڈرونز کا اصل ہدف Russia کے اندر موجود تیل کے ذخائر تھے، تاہم روسی الیکٹرانک وارفیئر نظام اور سگنلز جام کرنے والے آلات کے باعث ڈرون اپنا راستہ تبدیل کر بیٹھے۔
واقعے کے بعد Evika Siliņa کی حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم نے اینٹی ڈرون دفاعی نظام کی ناکامی پر وزیر دفاع Andris Sprūds سے استعفیٰ طلب کیا، جس کے بعد انہوں نے 10 مئی کو عہدہ چھوڑ دیا۔
وزیر دفاع کے استعفے کے بعد حکومتی اتحادی جماعت The Progressives نے حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی۔
ٹیلی وژن خطاب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں Evika Siliņa نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کا فیصلہ مشکل ضرور ہے لیکن یہی دیانتدارانہ راستہ تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی قوتوں نے قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔
یورپی میڈیا کے مطابق Latvia، جو NATO کا رکن ہے، Ukraine کی حمایت کرنے والے اہم یورپی ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ لٹویا نے برطانیہ کے ساتھ مل کر یوکرین کیلئے ایک بین الاقوامی ڈرون اتحاد بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد لاکھوں جنگی ڈرونز کی فراہمی ہے۔
