ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، ملزم عمرحیات اپنے اوپرعائد الزامات کو مسترد کر دیا

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات کے 342 کے بیان میں اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کی،دوران سماعت ملزم عمرحیات کادفعہ 342 کا بیان ریکارڈکیاگیا، جس میں اس نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔

ملزم نےعدالت میں کہاکہ اس کا ثناء یوسف سےکوئی جھگڑا یا رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی اس نےکبھی ملاقات کی درخواست کی،اسے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ دونوں سوشل میڈیا پر مشہور تھے,ثناء کےفالوورز نےپولیس پرسوشل میڈیا دباؤ ڈالا،جس کے باعث اسے کیس میں ملوث کیا گیا۔

دوران سماعت جج نےمختلف سوالات کیےجن میں ملزم کی مبینہ موجودگی،گاڑی رینٹ کرنے اور جائے وقوعہ سے متعلق سوالات شامل تھے،تاہم ملزم نے متعدد بار کہا کہ وہ وکیل کے بغیر جواب نہیں دے سکتا۔

بعد ازاں عدالت نےریمارکس دیےکہ دفعہ 342 کا بیان ملزم اور جج کے درمیان ہوتا ہے اور اس میں وکیل کی ضرورت نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت میں ویڈیو بنانے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت میں کوئی ویڈیو یا ٹک ٹاک نہیں بنائی جائے گی۔

ملزم نے وکیل کی موجودگی میں دوبارہ بیان ریکارڈ کروایا اورکہا کہ اس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ اسلام آباد آیا اور نہ ہی واقعے میں ملوث ہے۔

ملزم نے مزید کہا کہ اس کی گرفتاری شک کی بنیاد پر جڑانوالہ سے عمل میں لائی گئی، جبکہ پولیس نے اس کی ویڈیوز وائرل کیں اور مقدمہ مضبوط بنانے کیلئے جعلی رینٹ اگریمنٹ بنایا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے