چین میں کوئلے کی کان میں ہولناک دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد 90 ہو گئی

چین کے شمالی صوبے شانزی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک گیس دھماکے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کی شب کنیوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کوئلے کی کان میں پیش آیا۔

رپورٹس کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 247 کارکن ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ابتدائی طور پر صرف چند ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد ازاں ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیوں کے دوران مزید لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کے علاج اور لاپتا افراد کی تلاش میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے حادثے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی حکم دیا۔

چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے بھی متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ معلومات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور حفاظتی اقدامات میں غفلت کے ذمہ دار عناصر کا سخت احتساب کیا جائے۔

مقامی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں جبکہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کان چلانے والی کمپنی کے اعلیٰ حکام کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے