قطری وفد بھی ایران پہنچا ہے لیکن مذاکرات کا اصل ثالث پاکستان ہے، اسماعیل بقائی

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی مذاکرات کے دوران اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ) کا رکن ملک ہے اور یورینیم کی افزودگی اس کا قانونی اور خودمختار حق ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی “انتہائی گہرے اور پیچیدہ” ہیں، اس لیے کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔

اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ قطر کا ایک مذاکراتی وفد بھی تہران پہنچا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ سفارتی عمل میں “اصل ثالث” پاکستان ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ تہران کی فوری ترجیح خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کے امکانات کو بھی ایران اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل ہی خطے کے امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے