وزیراعظم کل ترکیہ اور ایران روانہ، خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کریں گے: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم سابق ایرانی سپریم لیڈر شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان بھی ہوں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول کا دورہ کر رہے ہیں، وزیراعظم استنبول میں ایک کاروباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

انہوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فریقین نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے اور جلد آئندہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے، مذاکرات کا اگلا دور ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین اور متعلقہ تقریبات کے بعد متوقع ہے، اس دوران سعودی عرب، چین، بحرین، ایران، برطانیہ اور یورپی یونین کے حکام کے درمیان بھی سفارتی رابطے جاری رہے۔

پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا

طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کو اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش بھارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور معاہدوں کی پاسداری سے متعلق اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس حقیقت سے غافل نہیں کہ بھارت دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبوں کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ دریا ہمالیہ سے نکلتے ہیں اور ان سے بہنے والے پانی سے متعدد ممالک مستفید ہوتے ہیں، اس لیے ان تمام ممالک کو اس عمل میں شامل ہونا چاہئے۔

پاکستان نے 753 پاکستانی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 753 پاکستانی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی، فہرست وزارت خارجہ اور نئی دلی میں پاکستان مشن کے ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی، فہرست میں بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کے تمام رپورٹ شدہ کیسز شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہر قیدی کے کیس کی افرادی بنیاد پر پیروی کرتا ہے، قونصلر رسائی، شہریت کی تصدیق اور وطن واپسی کے مراحل پر مسلسل کام جاری ہے، پاکستانی قیدیوں کی فہرست مستند اور قابل اعتبار ریکارڈ ہے۔

پاکستان کے ذریعے 70 سے زائد ایرانی شہری وطن واپس

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ ایران سے تعلق رکھنے والے ایک بحری جہاز کے 22 ایرانی عملے کے ارکان کو بحفاظت کراچی پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں اپنے وطن روانہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف بحری جہازوں سے منتقل کیے گئے ایرانی شہریوں سمیت پاکستان اب تک 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کر چکا ہے۔

افغانستان میں دہشت گردوں کو انتہائی احتیاط سے نشانہ بنایا

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فضائی کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کی گئیں، جن میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کے دوران غیر معمولی احتیاط برتی گئی تاکہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والے تمام 29 افراد دہشت گرد تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو پاکستان کے دفاعی اداروں نے فوری طور پر ٹریک کیا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے نیوٹرلائز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری

ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی رہائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل پنٹ لینڈ حکام، صومالی حکومت، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جہاز کی مالک کمپنی، جس کا دفتر دبئی میں ہے، اس سے بھی رابطہ جاری ہے، جبکہ یورپی یونین کی بحری فورس کے ذریعے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ تمام یرغمالی زندہ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن ہو جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے