انڈونیشیا کے شورش زدہ مشرقی صوبے پاپوا میں علیحدگی پسند باغیوں نے ایک امریکی پائلٹ کو ہلاک کرنے اور اس کے طیارے کو آگ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ انڈونیشی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بعض دعوؤں کی تاحال سرکاری تصدیق نہیں کی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق علیحدگی پسند تنظیم ویسٹ پاپوا نیشنل لبریشن آرمی (WPNLA) کے ترجمان سیبی سامبوم نے دعویٰ کیا کہ حملے میں امریکی پائلٹ نکولس ایف گوسیلن ہلاک ہوگئے۔ باغیوں کے مطابق طیارہ صوبہ پاپوا کے ضلع ہائی یاہوکیمو میں لینڈنگ کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ طیارہ بارہا انڈونیشی فوجی اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور ان کی جانب سے دی گئی تنبیہ کو نظر انداز کیا گیا، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
حملے کے بعد باغیوں کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں مسلح افراد کو اسلحہ اور کلہاڑیوں کے ساتھ آزادی کی علامت سمجھے جانے والے "مارننگ اسٹار” پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ باغیوں نے خبردار کیا کہ اگر انڈونیشیا ان کے زیرِ اثر علاقوں میں شہری طیاروں کی پروازیں جاری رکھتا ہے تو مستقبل میں بھی ایسے حملے کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
ادھر انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی کہ متعلقہ طیارہ وامینا سے یاہوکیمو جا رہا تھا اور لینڈنگ کے فوراً بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ وزارت کے مطابق طیارہ ایک مقامی فضائی کمپنی کی ملکیت تھا جو پاپوا کے دور افتادہ علاقوں میں خوراک، ایندھن، ڈاک اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کی خدمات انجام دیتی ہے۔
انڈونیشیا کی مشترکہ پولیس اور فوجی آپریشنز کے ترجمان یوسف سوتیجو نے بتایا کہ یاہوکیمو کے ایک ہوائی اڈے پر ایک جلا ہوا طیارہ ملا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ حملہ علیحدگی پسند باغیوں نے کیا یا امریکی پائلٹ کی ہلاکت کی اطلاعات درست ہیں۔
حکام کے مطابق طیارے میں امریکی پائلٹ سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد سوار تھے، جن میں باقی سات افراد مقامی پاپوان باشندے تھے۔ مسافروں کی حالت اور شناخت کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
