قومی پیغامِ امن کمیٹی کا عزم: فتنہ الخوارج اور دہشت گردی ناکام بنائیں گے، ربیع الاول "پیغامِ رحمت العالمین ﷺ” کے طور پر منایا جائے گا

قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد یا تنظیم کو دوسرے مذاہب یا مسالک کی عبادت گاہ پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ مذہبی منافرت یا فساد پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانون بلا امتیاز کارروائی کرے گا۔

یہ بات قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پنجاب کے وزیر داخلہ خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء، مذہبی رہنما، مسیحی اور ہندو برادری کے نمائندے بھی موجود تھے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کے قیام پر افواجِ پاکستان، وفاقی و صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان کو امن، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کا گہوارہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج، دہشت گرد عناصر اور ملک دشمن سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک بھر میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز رجحانات کے خاتمے کے لیے اپنی سرگرمیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے زور دیا کہ کسی بھی مذہب یا مسلک کی عبادت گاہ پر قبضہ ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات فساد کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص یا گروہ مذہبی کشیدگی پیدا کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی صوبائی تنظیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں، جبکہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ایک دوسرے کے مدارس اور عبادت گاہوں کے دورے کر کے اتحاد و یکجہتی کا عملی پیغام دے رہے ہیں۔

اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران موصول ہونے والی شکایات انتہائی محدود رہیں اور ان میں بھی بیشتر کا تعلق سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سے تھا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ ربیع الاول کو "پیغامِ رحمت العالمین ﷺ” کے طور پر منایا جائے گا، جس کے دوران اتحاد، محبت، برداشت اور اخوت کے فروغ کے لیے خصوصی تقریبات اور آگاہی مہمات چلائی جائیں گی۔

پنجاب کے وزیر داخلہ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری ہے اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ربیع الاول کے دوران بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علماء، انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ان کی عبادت گاہوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک خصوصاً بھارت میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثر دیا جاتا ہے، لیکن جب سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں تو یہاں کی محبت، احترام اور مہمان نوازی دیکھ کر مثبت پیغام لے کر واپس جاتے ہیں۔

جامعۃ الرشید کراچی کے نمائندے انجینئر مفتی عثمان یوسف نے کہا کہ پاکستان امن کا ملک ہے اور اس کے استحکام کے لیے کام کرنا دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام مذہبی مکاتبِ فکر متحد ہیں۔

ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ علامہ محمد حسین اکبر نے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ افواہوں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بشپ کامران نے بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان نے قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کے امن، استحکام اور اتحاد کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے