امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے لیے تیل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے حالیہ اقدامات "مکمل طور پر ناقابل قبول” ہیں اور ان کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اس جنرل لائسنس کو منسوخ کر رہا ہے جس کے تحت ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی محدود فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ رعایت امریکا اور ایران کے درمیان جون 2026 میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) کے بعد دی گئی تھی۔
برطانوی بحریہ سے وابستہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی UKMTO نے بھی تصدیق کی کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں کم از کم تین آئل ٹینکر نامعلوم میزائل یا پروجیکٹائل کی زد میں آئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی اور نہ ہی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی مفاہمت کا انحصار اس کے عملی رویے پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کرتا تو اسے کسی قسم کی اقتصادی رعایت نہیں دی جا سکتی، جبکہ امریکی مذاکراتی ٹیم حتمی معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 21 جون 2026 کو جاری کیے گئے جنرل لائسنس کے ذریعے 21 اگست 2026 تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور متعلقہ سرگرمیوں پر بعض پابندیوں میں عارضی نرمی دی تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد اس ریلیف کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
