بھارت نے پانی کو ہتھیار بنالیا ہے اور ایک بار پھر آبی دہشتگردی کرتے ہوئے سلال کے بعد باکھڑا ڈیم سے بھی پانی چھوڑ دیا ۔
تفصیلات کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹے اہم قرار دیئے جارہے ہیں، دریائے ستلج میں سیلاب کا خدشہ ہے ، قصور اور اوکاڑہ سمیت دیگر شہر متاثر ہونے کا امکان ہے۔
چناب میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہے، ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادرآباد پردرمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی توقع ہے، ہیڈ بلوکی اور سدھنائی پر بھی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ منگلا اور تریموں پر بھی نچلے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔
ہیڈ پنجند پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے، 17 ہزار کیوسک سے بڑھ کر 80 ہزار کیوسک ہو گیا ہے اور چند گھنٹوں میں ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک ہونے کا خدشہ ہے۔
جھنگ میں ریلے قریبی آبادیوں میں داخل ہو چکے ہیں ، چنیوٹ کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں، پسرور میں نالہ ڈیک کی تباہ کاریاں جاری ہیں، بند ٹوٹنے سے زرعی رقبہ متاثر ہوا۔
لیہ کے نشیبی علاقے سمرا نشیب میں دریائے سندھ کا زمینی کٹاؤ تیز ہو گیاہے، دو سرکاری اسکول صفحہ ہستی سے مٹنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ بستی کنجال سے مکینوں کا انخلا جاری ہے ۔
