جی ایس ایم اے کی رپورٹ: ٹیلی کام سیکٹر نے 2025 کے دوران تقریباً 278 ارب روپے ٹیکس دیا

موبائل آپریٹرز کی عالمی تنظیم جی ایس ایم اے (GSMA) نے ڈیجیٹل پاکستان 2030 رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر نے 2025 کے دوران تقریباً 278 ارب روپے ٹیکس اور فیس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرائے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی موبائل انٹرنیٹ تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق (جینڈر گیپ) 25 فیصد سے کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیکٹرم اصلاحات سے سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی، تاہم ٹیلی کام شعبے پر عائد بھاری ٹیکس سرمایہ کاری کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسیفک جولین گورمن کے مطابق پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے فائبر نیٹ ورک، کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم اصلاحات کا عمل جاری رکھنا اور ریگولیٹری فیسوں و مالیاتی بوجھ کے درمیان متوازن پالیسی اپنانا ضروری ہے، تاکہ موبائل آپریٹرز نیٹ ورک کی توسیع، فائبر آپٹک، ڈیٹا سینٹرز اور قابل اعتماد توانائی کے نظام میں سرمایہ کاری جاری رکھ سکیں۔

جولین گورمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل شمولیت کو مزید فروغ دینا ہوگا، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون ہی ڈیجیٹل پاکستان ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کو یقینی بنا سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے