خطے میں امن کےلئے کاوشیں جاری ہیں، دفاعی معاہدے بطور ثالث ہمارے کردار سے متصادم نہیں، ترجمان

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش ہے، چند روز کے امن کے بعد ایک بار پھر صورتحال دگرگوں ہے، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت پر زور دیتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی اور دفاعی معاہدے کوئی متضاد چیزیں نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فریقین کو اسلام آباد ایم او یو کی جانب دوبارہ لانے کیلئے کوشاں ہیں، آبنائے ہرمز کو معمول پر لانے کیلئے فریقین میں رابطے جاری ہیں، وزیراعظم کی سعودی عرب کے ولی عہد سے بات چیت ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال تشویشناک ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ہمیں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی امید ہے۔ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے اور دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں کویتی وزیر خارجہ کا دورہ اہم تھا، پاکستان اور کویت نے کئی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا، کرغزستان میں نائب وزیراعظم نے ایس سی او اجلاس میں شرکت اور اہم ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم کی امریکی کانگریس کے وفد سمیت تجارتی وفد سے ملاقاتیں ہوئیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان جرمن نشریاتی ادارے کی جاری کردہ دستاویزی فلم مسترد کرتا ہے، جان بوجھ کر پاکستانی ایٹمی پروگرام پر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی، جرمن نشریاتی ادارے کو بنیادی صحافتی اقدار پر عمل کرنا چاہئے، پاکستان کو اپنے جامع کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد ہے۔ پاکستان کا نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم عالمی معیار کے مطابق ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی بھارتی حکومت کی عدم برداشت کا ثبوت ہے، پاکستان کارگل کے حوالے سے کئی بار مؤقف کا اظہار کرچکا، کارگل کا معاملہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو معمول کہنا اور قانونی تحفظ دینا قبول نہیں،ترجمان

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بطور میزبان ایس سی او سربراہ اجلاس کی دعوت تمام رکن ممالک کو دینے کے پابند ہیں، پاکستان آئندہ برس ایس سی او سربراہ اجلاس کی تمام رکن ممالک کو دعوت دے گا، عراقی حکومت کے مؤقف سے آگاہ نہیں ہیں، ہر چیز پر بیان دینے کے پابند نہیں،ضرورت اور حالات کے مطابق اظہار کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کویت میں دفاعی معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا، کویت پاکستان دفاعی معاہدہ دوطرفہ تعلقات کی 4 دہائیوں کے بعد طے پایا، کویت سے دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی عرب معاہدے سے مختلف ہے، اردن اور بحرین سے بھی پاکستان کے دفاعی تعلقات ہیں۔

طاہر حسین اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی اور دفاعی معاہدے کوئی متضاد چیزیں نہیں ہیں، دفاعی معاہدے بطور ثالث ہمارے کردار سے متصادم نہیں، تمام حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کام کررہے ہیں، وزیراعظم، سی ڈی ایف اور نائب وزیراعظم کی قیادت میں کوششیں جاری ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی پاک بھارت ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو ویزے ملنے کی تصدیق کردی، کہا دونوں ہائی کمیشنز کے اہلکاروں کو ویزے کا اجرا انتظامی معاملہ ہے، پاکستان نے قانونی دستاویز کے حامل کسی افغان شہری کو ڈیپورٹ نہیں کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے