پاکستان کے موجودہ ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا۔ شاندار کارکردگی کے باعث انہیں ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔
پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
بابر اعظم نے سیریز کی چار اننگز میں مجموعی طور پر 193 رنز اسکور کیے اور 96.50 کی شاندار اوسط کے ساتھ سیریز کے سب سے کامیاب بیٹر رہے۔
انہوں نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 23 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے 88 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جبکہ ہدف کے تعاقب میں آخری اننگز میں صرف 30 گیندوں پر ناقابلِ شکست 24 رنز بنا کر ٹیم کو فتح دلانے میں کردار ادا کیا۔
سیریز کے اختتام پر بابر اعظم کو جسٹن گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز منتخب کیا گیا۔
یہ بابر اعظم کے ٹیسٹ کیریئر کا پہلا پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ ہے، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ میں مجموعی طور پر ان کا 10واں پلیئر آف دی سیریز اعزاز ہے۔
اس سے قبل وہ پانچ مرتبہ ٹی20 انٹرنیشنل اور چار مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
دسویں پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ کے ساتھ بابر اعظم نے پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ پلیئر آف دی سیریز ایوارڈز جیتنے کا تاریخی ریکارڈ برابر کر دیا۔
اب بابر اعظم، عمران خان اور وسیم اکرم تینوں پاکستان کی جانب سے 10، 10 پلیئر آف دی سیریز ایوارڈز کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں، جبکہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس 9 ایوارڈز کے ساتھ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔
بابر اعظم کی مسلسل شاندار کارکردگی انہیں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں کی صف میں مزید مضبوطی سے کھڑا کر رہی ہے اور آئندہ سیریز میں وہ اس ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کے قریب ہوں گے۔
