پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف نئے عالمی ردعمل پر زور، اقوام متحدہ سے اصلاحات کا مطالبہ

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نئے اور جامع عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی اپیل کی ہے۔
اس نے انسداد دہشت گردی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے پابندیوں کے موجودہ نظام میں خامیاں دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ اجلاس کا موضوع نائن الیون کے 25 سال بعد دہشت گردی تھا۔

عاصم افتخار احمد نے نائن الیون کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان متاثرین میں سات پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔انہوں نے امریکی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔پاکستانی سفیر نے عالمی ردعمل کا بھی ذکر کیا۔  انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کا حوالہ دیا۔یہ قرارداد نائن الیون حملوں کے بعد منظور کی گئی تھی۔ یہ اب بھی اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی نظام کا اہم حصہ ہے۔

عاصم افتخار نے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ملک قرار دیا۔ان کے مطابق پاکستان نے انٹیلی جنس تعاون میں اہم کردار ادا کیا۔   پاکستان نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے القاعدہ کی صلاحیت کم ہوئی۔عاصم افتخار کے مطابق اہم کامیابیاں پاکستان کی کوششوں سے حاصل ہوئیں۔ انہوں نے عالمی مہم میں پاکستان کے فعال تعاون کو نمایاں قرار دیا۔

عاصم افتخار نے افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر خاص تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ تین برسوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔پاکستانی سفیر نے کئی دہشت گرد گروہوں کا ذکر کیا۔  ان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش شامل ہیں۔انہوں نے ان گروہوں کے خلاف مؤثر عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے