چین کے وزیرِ مملکت برائے سلامتی چن یی شن نے مصنوعی ذہانت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کے لیے نیا خطرہ بن رہی ہے۔چن یی شن نے ایک مضمون میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی۔
چینی وزیرِ سلامتی کے مطابق دشمن قوتیں مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سیاسی افواہیں پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نقصان دہ معلومات بھی بڑے پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہیں۔چن یی شن نے اسے چین کے خلاف رائے عامہ کی جنگ قرار دیا۔انہوں نے ادراکی جنگ کو بھی چین کے لیے خطرہ قرار دیا۔ان کے مطابق یہ سرگرمیاں سیاسی اور ادارہ جاتی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔انہوں نے نظریاتی سلامتی کے لیے بھی اسے خطرہ قرار دیا۔
چن یی شن نے مصنوعی ذہانت کو عالمی تکنیکی مسابقت کا مرکزی میدان قرار دیا۔ان کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان بھی مسابقت بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اس مسابقت کا نیا محاذ بن چکی ہے۔چینی عہدیدار نے بعض جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر بھی تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ماڈلز اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
چن یی شن نے غیر ملکی خفیہ اداروں پر بھی الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارے جدید ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کر رہے ہیں۔ان کے مطابق ذہین ویب کرالرز اور ڈیٹا مائننگ استعمال کی جا رہی ہے۔ذہین پروفائلنگ کے ذریعے بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔چن یی شن کے مطابق اہم قومی ڈیٹا خطرے میں ہے۔انہوں نے تجارتی رازوں اور شہریوں کی نجی معلومات کا بھی ذکر کیا۔
