جماعت اسلامی نے وزیراعظم سے ملاقات تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔
ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ چند روز کیلئے وزیراعظم کی درخواست مان رہے ہیں۔ وزیراعظم واپس تشریف لائیں۔ ان کے ساتھ بات کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ دو ماہ سے سڑکوں پر بیٹھے ہیں، 10 ماہ بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ ریلیف نہیں ملے گا تو ہمارے پاس اکتوبر کا پہلا ہفتہ اور عشرہ بھی ہے۔ اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہمارے کارکن مسلسل میدان میں موجود رہیں گے۔ پلان اے، بی اور سی کے مطابق کئی جگہوں سے اسلام آباد آنا ہے۔
امیر جماعت اسلامی ہمارا ایجنڈا فساد نہیں ہے، ریلیف نہ ملاتولانگ مارچ کوجاری رکھیں گے، حکومت کو چند روز کی مہلت دے رہے ہیں۔ حکومت کو یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم پیٹرول پرحکومتی ریلیف پیکج کو ناکافی سمجھتے ہیں، لیوی150ارب وصول کی جارہی جبکہ ریلیف25ارب کادیاجارہاہے، لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، وزیراعظم نےکہاکہ وطن واپسی پرریلیف دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ستمبر کو پی ٹی آئی کوبھی احتجاج کاپوراحق ہے، حکومت کو پی ٹی آئی سے بھی بات کرنی چاہیے، آئین سب کو پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور جماعت اسلامی سے عوامی مطالبات کے لیے جاری لانگ مارچ کو چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمان کو بتایا کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے اور وطن واپس پہنچتے ہی ان سے ملاقات کرکے عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے لیوی بھتے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور لیوی بھتے کے خاتمے تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی۔
