یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔حوثیوں نے سعودی عرب میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
حوثیوں کے مطابق سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جنوبی سعودی عرب کے دیگر علاقوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ان دعووں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے ساحلی صوبے حدیدہ میں کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔اتحاد کے مطابق حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام نشانہ بنائے گئے۔ بارودی کشتیوں کی تنصیبات بھی کارروائی کا ہدف بنیں۔
اتحاد نے بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔سعودی اتحاد کے مطابق کارروائی کا مقصد بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی فوجی صلاحیت کم کرنا ہے۔
یمنی حکومت کی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔یمنی حکام کے مطابق فورسز نے باب المندب کے اطراف اہم علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ انہیں سعودی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ اتحاد نے 324 اہم اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔یمنی حکومت نے صنعاء کی جانب کارروائی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم، زمینی صورتحال سے متعلق بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یمنی حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر موخا پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب متعدد مقامات پر بھی پیش قدمی کی ہے۔حکومتی فورسز نے ذباب اور دیگر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں نے بعض حکومتی دعووں کو مسترد کیا ہے۔
