خیبرپختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کا حکم نامہ جاری کردیا گیا۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔
آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبرپختونخوا میں پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دیدی گئی، پاک فوج کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کی جان ومال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
پاک فوج امن وامان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی، گورنر کے پی ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعدفوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں وفاقی وزراء محسن نقوی اور عطاء تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صورتحال اور حالات کا تقاضا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کو ایکسرسائز کیا گیا۔ گورنر کو وفاق نے اختیارات تفویض کئے ہیں، 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے ایک خط کے ذریعے بہت اہم معلومات دیں، صدر مملکت نے آئین کے اندر رہتے ہوئے اقدام کیا، صوبے میں آئینی بحران ہے اور آپ اپنی سیاست کو فوقیت دے رہے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے تحت دیئے اختیار کو استعمال کیا ہے، آرٹیکل 232 کہتا ہے صوبے پر بیرونی حملہ یا اندرونی خلفشار ہو تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے، یہاں تو صوبے میں آگ لگی ہوئی ہے اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ ہوا۔
وفاقی وزیرقانون نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر کو خیبرپختونخوا میں فوج تعیناتی کا اختیار دے دیا، آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو گورنر کی معاونت کا حکم دے دیا گیا ہے، پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اس کی توثیق کرائی جائے گی، مشترکہ اجلاس بلا کر یہ سب چیزیںپارلیمان کے سامنے رکھی جائیں گی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے، گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دے سکیں گے، خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری عہدے چھوڑ دیں گے۔
