سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں۔
اسلام آباد پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، ہم اس غیر آئینی اقدام کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں، عوام میں جائیں گے،پارلیمنٹ اور عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں 7 اکتوبر کو عمرہ ادا کرکے پاکستان واپس آیا تھا، پی ٹی آئی کے وفد نے مجھ سے ملاقات کی، پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی کہ میں مذاکرات میں کردار ادا کروں، اگلے روز اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزراء بھی میرے پاس آئے، حکومتی وفد نے بھی مجھ سے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کا کہا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مجھ سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کو صوبے تک محدود کردیا، حکومت ایمرجنسی لگنے والے تھی تو حکومت نے فیصلہ موخر کردیا، حکومت چاہتی تھی کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جائے، پی ٹی آئی کی خواہش تھی کہ بانی سے ملاقات کرنے دی جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے کا نفرنس کال پر سہیل آفریدی،بیرسٹر گوہر اور شاہرام تراکئی سے بات کی، ان کا کہنا تھا کہ ہماری مطالبات مانے جائیں تو ہی لانگ مارچ ختم کردیں گے، میں نے کہا پشاور جانے کو تیار ہوں،صبح نماز کے بعد پھر وزیراعظم کے پاس گیا، ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
