وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے انتظامی امور چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی۔ گورنر خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل کی معاونت سے صوبائی حکومت کے فرائض انجام دیں گے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں ایڈوائزری کونسل بھی قائم کردی گئی۔ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل 11 رکنی کونسل کا ڈھانچہ بھی واضح کر دیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق سابق ایف بی آر چیئرمین طارق محمود پاشا مالیات و ریونیو جبکہ سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد صنعت و تجارت کا شعبہ دیکھیں گے۔ پاک فوج کی سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان کو صحت اور سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کو توانائی ، منصوبہ بندی و ترقی کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ تعلیم کے امور سابق نگران وزیر ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، جبکہ قانون و پارلیمانی امور سابق ایڈووکیٹ جنرل عامر جاوید کے پاس ہوں گے۔
اطلاعات و نشریات کا شعبہ سابق سیکریٹری اطلاعات اے این پی ثمر ہارون بلور، اوقاف و مذہبی امور خطیبِ اعلیٰ خیبر پختونخوا مولانا محمد طیب قریشی جبکہ داخلہ و قبائلی معاملات سابق آئی جی جیل خانہ جات کفایت اللہ خان دیکھیں گے۔
معاشی ماہر ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو معدنیات اور سابق نگران وزیر آصف رفیق آفریدی کو بلدیات، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کا محکمہ دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نئی قیادت کو صوبے کا مثبت چہرہ قرار دے دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ کونسل میں آپ کو ٹیکنوکریٹ نظر آئیں گے یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں یہ شائننگ اسٹارز ہیں خیبر پختونخواہ کے، جو سلیکشن کی گئی ہے ٹوٹل میرٹ کے اوپر کی گئی یہ اصل چہرہ ہیں۔
ایڈوائزری کونسل گورنر خیبرپختوا فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی، انتظامی شفافیت اور ترقیاتی منصوبوں پر جامع مشاورت فراہم کرے گی۔
